مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

کرکٹ شائقین کے لیے فیلڈنگ پوزیشنز کے ناموں کی رہنمائی

کرکٹ فیلڈ میں 11 کھلاڑی ہوتے ہیں، مگر ایک غلط قدم پورا اوور بدل سکتا ہے۔ آپ جب ٹی وی پر سلِپ، گلی، کور، مڈ آف، مڈ وکٹ، فائن لیگ یا تھرڈ مین سنتے ہیں، تو یہ صرف نام نہیں بلکہ مخصوص زاویے، فاصلے اور ذمہ...

23 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ شائقین کے لیے فیلڈنگ پوزیشنز کے ناموں کی رہنمائی
❦

کرکٹ شائقین کے لیے فیلڈنگ پوزیشنز کے ناموں کی رہنمائی

کرکٹ فیلڈ میں 11 کھلاڑی ہوتے ہیں، مگر ایک غلط قدم پورا اوور بدل سکتا ہے۔ آپ جب ٹی وی پر سلِپ، گلی، کور، مڈ آف، مڈ وکٹ، فائن لیگ یا تھرڈ مین سنتے ہیں، تو یہ صرف نام نہیں بلکہ مخصوص زاویے، فاصلے اور ذمہ داریاں ہیں۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف پوزیشنز عموماً آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کے مطابق رکھی جاتی ہیں، جبکہ 22 گز کی پچ اور 30 گز کا دائرہ حکمتِ عملی طے کرتے ہیں۔ کرکٹ گائیڈ کی یہ رہنمائی ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بنیادی اور جدید فیلڈنگ پوزیشنز واضح کرتی ہے۔ سلِپ کورڈن کے لیے عموماً ایک سے تین کھلاڑی، پاور پلے میں حلقے کے اندر مقررہ فیلڈرز، اور آخری اوورز میں باؤنڈری رائیڈرز اہم ہوتے ہیں۔ عملی اصول یہی ہے: بلے باز کا مضبوط شاٹ، گیندباز کی لائن اور میچ کا مرحلہ دیکھ کر پوزیشن منتخب کریں۔

سبز کرکٹ میدان میں کپتان کھلاڑیوں کو سلِپ اور کور پوزیشنز سمجھاتے ہوئے

کرکٹ گائیڈ کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نام یاد کرنا کافی نہیں؛ ہر پوزیشن کا زاویہ، ردِعمل کا وقت اور ممکنہ شاٹ بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر آپ اس فہرست کو میچ کے مرحلے سے جوڑیں، تو فیلڈ سیٹ کرنا کہیں زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ مزید بنیادی معلومات کے لیے کرکٹ کے بنیادی اصولوں کی رہنمائی دیکھی جا سکتی ہے۔

مزید تفصیلات دیکھنے کے لیے یہ راستہ اختیار کریں۔

مزید جانیں

کیا تقابل کیا گیا؟

یہ گائیڈ فیلڈنگ پوزیشنز کو تین بنیادوں پر دیکھتی ہے: میدان کا حصہ، عام شاٹ اور کھلاڑی کی ذمہ داری۔ آف سائیڈ میں سلِپ، گلی، پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور اور مڈ آف شامل ہیں، جبکہ لیگ سائیڈ میں وکٹ کیپر، شارٹ لیگ، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ، فائن لیگ اور لانگ لیگ نمایاں ہیں۔ ہر پوزیشن کا نام بلے باز کے مقابلے میں کھلاڑی کے زاویے سے سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کیمرے کی اسکرین کے بائیں یا دائیں حصے سے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں میریلبون کرکٹ کلب کے قوانین کے تحت وکٹ کیپر اور فیلڈرز کی قانونی ذمہ داریاں بنیادی حوالہ فراہم کرتی ہیں۔ میدان کی حد، پچ کی 22 گز لمبائی اور 30 گز کے دائرے کی پابندیاں محدود اوورز کے میچ میں الگ اہمیت رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے کھیلنے کے ضوابط بھی پاور پلے اور فیلڈنگ پابندیوں کی عملی تشریح دیتے ہیں۔ میچ سے پہلے کپتان کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ گیند نئی ہے یا پرانی، پچ سست ہے یا تیز، اور بلے باز فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے یا بیک فٹ پر۔

  • آف سائیڈ: سلِپ، گلی، پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف۔
  • لیگ سائیڈ: شارٹ لیگ، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ، فائن لیگ، لانگ لیگ۔
  • مرکزی کردار: وکٹ کیپر، بولر، کپتان اور باؤنڈری فیلڈرز۔

میدان کی ترتیب اور پہلی نظر میں فرق کیا دکھائی دیتا ہے؟

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کی ترتیب بلے باز کے دائیں یا بائیں ہاتھ، گیندباز کی لائن اور میچ کے فارمیٹ سے بدلتی ہے؛ کوئی ایک مستقل نقشہ ہر گیند کے لیے درست نہیں ہوتا۔ وکٹ کیپر وکٹ کے پیچھے مرکزی مقام رکھتا ہے، جبکہ سلِپ فیلڈرز کنارے پر رہ کر بلے کے بیرونی کنارے سے نکلنے والی گیند پکڑتے ہیں۔ تیز گیندباز کے ساتھ سلِپ اور گلی زیادہ جارحانہ، اسپنر کے ساتھ شارٹ لیگ اور سلی پوائنٹ زیادہ مفید ہو سکتے ہیں۔

ابتدائی نظر میں تین چیزیں فوراً پہچانیے: وکٹ کے نسبت کھلاڑی کا زاویہ، باؤنڈری تک فاصلہ، اور کیچ یا رن روکنے کا بنیادی مقصد۔ مثال کے طور پر سلِپ کیچ کے لیے ہے، پوائنٹ کٹ شاٹ روکنے کے لیے، جبکہ کور ڈرائیو کے راستے کو بند کرتا ہے۔ وکٹ کیپر کے سامنے مڈ آن، مڈ آف اور سیدھی باؤنڈری کی پوزیشنز گیندباز کی لائن کو محفوظ بناتی ہیں۔ کرکٹ میں بولنگ لائن اور لینتھ کی حکمتِ عملی اس تعلق کو مزید واضح کرتی ہے۔

ایک اہم عملی نکتہ اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے: دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے آف سائیڈ کا نقشہ الٹا نہیں ہوتا، مگر بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف سلِپ، گلی، پوائنٹ اور کور کے زاویے بدل جاتے ہیں۔ اس لیے کپتان کو صرف نام کی تختی نہیں دیکھنی چاہیے؛ بلے باز کے اسٹانس سے 10 سے 20 ڈگری کا معمولی فرق بھی کیچ کے امکانات بدل سکتا ہے۔ اسی طرح 30 گز کے دائرے کے قریب کھڑا فیلڈر سنگل روکنے میں مؤثر ہو سکتا ہے، مگر باؤنڈری کے قریب موجود فیلڈر چوکا بچانے کے لیے بہتر ہے۔ ایم سی سی کی اصطلاح میں فیلڈر کا مقصد گیند کے ممکنہ راستے کو محدود کرنا ہے، محض خوب صورت نقشہ بنانا نہیں۔ ایک معتبر اصول یوں بیان کیا جاتا ہے: "فیلڈنگ پوزیشن کا مطلب گیند کے ممکنہ راستے کی ذمہ داری ہے۔" یہ مفہوم قوانین کے عملی اطلاق سے اخذ ہوتا ہے، کسی ایک جامد فہرست سے نہیں۔

تفصیلی فیلڈ نقشہ دیکھنے کے لیے یہ مفید اگلا قدم ہے۔

مزید جانیں

کرکٹ فیلڈ کا اوپر سے منظر، رنگین نشانات سلِپ، کور، مڈ وکٹ اور فائن لیگ دکھاتے ہوئے

کون سی فیلڈنگ پوزیشنز اپنا کام بہتر انجام دیتی ہیں؟

سلِپ، وکٹ کیپر، پوائنٹ اور کور اس وقت مضبوط انتخاب بنتے ہیں جب گیندباز بلے کے قریب سے گزرنے والی یا آف سائیڈ شاٹ پیدا کرنے والی لائن رکھتا ہے۔ مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ لیگ سائیڈ کے پل، ہک اور فلک شاٹس کو قابو کرتے ہیں، جبکہ لانگ آف اور لانگ آن بلند شاٹ کے آخری حصے میں حفاظتی دیوار بنتے ہیں۔ پوزیشن کی کامیابی فیلڈر کے نام سے نہیں بلکہ گیند کی رفتار، بلے باز کے ارادے اور متوقع شاٹ سے طے ہوتی ہے۔

وکٹ کیپر

وکٹ کیپر ہر گیند پر فعال رہتا ہے۔ وہ اسٹمپ کے پیچھے گیند روکتا، کنارے کے کیچ لیتا، اسٹمپنگ کرتا اور رن آؤٹ کے لیے گیند فوری واپس کرتا ہے۔ تیز گیند کے دوران کیپر عموماً وکٹ سے پیچھے رہتا ہے، جبکہ اسپنر کے خلاف آگے آ کر اسٹمپنگ کا دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان کے محمد رضوان اور بھارت کے رشبھ پنت جیسے وکٹ کیپر اس کردار کی مختلف جارحانہ شکلیں دکھاتے ہیں، مگر بنیادی اصول ایک ہی رہتا ہے: گیند پر نظر، جسم کا توازن اور ہاتھوں کی نرم گرفت۔

سلِپ اور گلی

سلِپ فیلڈر وکٹ کے ترچھے پیچھے، وکٹ کیپر کے قریب کھڑا ہوتا ہے۔ پہلی سلِپ عموماً سب سے زیادہ ردِعمل مانگتی ہے؛ دوسری اور تیسری سلِپ قدرے باہر رہ کر چوڑے کنارے کا امکان سنبھالتی ہیں۔ گلی سلِپ سے زیادہ چوڑی اور پوائنٹ کے قریب ہوتی ہے، اس لیے کٹ، ایج اور بیک فٹ شاٹس کے لیے اہم ہے۔ ٹیسٹ میچ میں جیمز اینڈرسن یا شاہین شاہ آفریدی جیسے سوئنگ گیندبازوں کے خلاف سلِپ کورڈن کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے، لیکن ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری پابندیوں کے باعث یہی فیلڈ اکثر محدود ہو جاتی ہے۔

پوائنٹ، کور اور ایکسٹرا کور

پوائنٹ کٹ شاٹ اور مربع آف سائیڈ کے گراؤنڈ شاٹس روکتا ہے۔ کور آف ڈرائیو کے راستے میں ہوتا ہے، جبکہ ایکسٹرا کور کور اور مڈ آف کے درمیان قدرے وسیع زاویہ سنبھالتا ہے۔ اگر بلے باز کا فرنٹ فٹ مضبوط ہو، تو کور فیلڈر کو اندر رکھ کر سنگل بند کیا جا سکتا ہے؛ اگر باؤنڈری کا خطرہ زیادہ ہو، تو اسے پیچھے بھیجا جاتا ہے۔ کپتان بابر اعظم یا جو روٹ جیسے کور ڈرائیو کھیلنے والے بلے بازوں کے خلاف اس زاویے کا خاص خیال رکھتے ہیں، کیونکہ معمولی خالی جگہ بھی چار رنز میں بدل سکتی ہے۔

مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ

مڈ آف اور مڈ آن گیندباز کے سامنے نسبتاً سیدھے مقامات ہیں۔ مڈ آف آف ڈرائیو اور سیدھے شاٹ کو روکتا ہے، جبکہ مڈ آن آن ڈرائیو اور سیدھی ہٹ کو قابو کرتا ہے۔ مڈ وکٹ لیگ سائیڈ کا بڑا دفاعی مقام ہے، جہاں فلک، پل اور اندر سے آنے والی گیندیں پہنچتی ہیں؛ اسکوائر لیگ اس سے زیادہ مربع زاویے پر رہتا ہے۔ باؤنڈری سے پہلے 30 گز کے دائرے میں موجود یہ فیلڈرز تیز سنگل روک سکتے ہیں، مگر انہیں غلط اندازے سے آگے رکھنے پر پل شاٹ کے خلاف پیچھے خالی جگہ بن جاتی ہے۔

کہاں یہ پوزیشنز کمزور پڑتی ہیں؟

فیلڈنگ پوزیشنز اس وقت کمزور پڑتی ہیں جب کپتان ایک ہی نقشہ ہر اوور، ہر بلے باز اور ہر فارمیٹ پر نافذ کرتا ہے۔ ٹیسٹ میں تین سلِپ اور گلی کنارے کے لیے بہترین دباؤ بنا سکتے ہیں، مگر ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری بچانے کی ضرورت کے باعث یہ ترتیب مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پاور پلے کے دوران 30 گز کے دائرے سے باہر محدود فیلڈرز کی تعداد حکمتِ عملی کو سخت بناتی ہے، جبکہ آخری پانچ اوورز میں یارکر اور سلوئر گیند کے مطابق لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ کی جگہ بدل سکتی ہے۔

عام غلطی یہ ہے کہ فیلڈر کو صرف پوزیشن کا نام بتا دیا جاتا ہے، شاٹ کا امکان نہیں۔ اگر پوائنٹ پر کھلاڑی کٹ شاٹ کے لیے تیار نہیں، کور ڈرائیو کے خلاف کور فیلڈر بہت اندر ہے، یا فائن لیگ پر موجود کھلاڑی باؤنڈری سے غلط فاصلے پر ہے، تو نقشہ کاغذ پر خوب صورت مگر میدان میں بے اثر رہتا ہے۔ موسم بھی فرق ڈالتا ہے: اوس والی رات میں گیند پھسل سکتی ہے، اس لیے باؤنڈری فیلڈر کو گیند اٹھانے کے بعد پھینکنے کا زاویہ پہلے سے طے کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ کندھے کی سمت، ہوا کا رخ اور باؤنڈری کی ڈھلوان جیسے عوامل عام فہرستوں میں کم بیان ہوتے ہیں، مگر آخری اوور میں یہی معمولی تفصیل دو رنز اور چار رنز کے درمیان فیصلہ بن سکتی ہے۔

  • فیلڈر کا پہلا قدم گیندباز کی ریلیز کے ساتھ ہونا چاہیے۔
  • کیچنگ پوزیشن میں وزن پنجوں پر، باؤنڈری پوزیشن میں جسم گیند اور وکٹ کے درمیان ہونا چاہیے۔
  • ہر گیند کے بعد کپتان کو فیلڈر کے زاویے اور پچھلے شاٹ کا جائزہ لینا چاہیے۔
  • بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف نام نہیں، زاویہ اور شاٹ کی سمت دوبارہ طے کی جائے۔

رات کے ٹی ٹوئنٹی میچ میں باؤنڈری فیلڈر اوس زدہ گھاس پر گیند کی طرف دوڑتا ہوا

یہاں ایک قابلِ جانچ عملی فرق بھی ہے: ٹیسٹ کرکٹ میں سلِپ کی تعداد گیند کی حرکت اور کنارے کے خطرے سے بڑھ سکتی ہے، مگر محدود اوورز میں فیلڈنگ پابندیاں اور باؤنڈری تحفظ زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ اس لیے "بہترین فیلڈ سیٹ" کوئی مستقل نسخہ نہیں؛ یہ گیند نمبر، وکٹ کی حالت اور رنز کی ضرورت سے بنتا ہے۔ کرکٹ گائیڈ کی سفارش ہے کہ کپتان ہر اوور کے آغاز پر کم از کم تین سوال پوچھے: اگلا متوقع شاٹ کون سا ہے، سنگل کہاں سے ملے گا، اور غلط گیند پر باؤنڈری کس سمت جا سکتی ہے؟

اپنی فیلڈنگ حکمتِ عملی کو مزید منظم کرنے کے لیے یہ حوالہ دیکھیں۔

مزید جانیں

کیا کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنا فائدہ مند ہے؟

ہاں، پوزیشنز کے نام یاد کرنا فائدہ مند ہے، بشرطیکہ انہیں شاٹ، زاویے، فارمیٹ اور گیندباز کی حکمتِ عملی کے ساتھ سمجھا جائے۔ صرف سلِپ یا مڈ وکٹ کا نام جاننے سے فیلڈر بہتر نہیں بنتا؛ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں کھڑا ہونا ہے، کس سمت پہلا قدم لینا ہے اور گیند کے بعد وکٹ تک واپسی کیسے کرنی ہے۔ یہی علم ناظر کو میچ پڑھنے اور کپتان کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ابتدائی سیکھنے والے کے لیے ترتیب سادہ رکھی جا سکتی ہے: پہلے وکٹ کیپر، بولر، سلِپ، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین پہچانیے؛ پھر ڈیپ اور شارٹ کے فرق کو شامل کیجیے۔ "ڈیپ" عموماً باؤنڈری کے قریب مقام بتاتا ہے، جبکہ "شارٹ" وکٹ کے قریب مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے، مگر یہ فاصلے مقررہ میٹر نہیں ہوتے۔ فائن لیگ وکٹ کے پیچھے لیگ سائیڈ پر، تھرڈ مین وکٹ کے پیچھے آف سائیڈ پر، اور لانگ آف و لانگ آن سیدھی باؤنڈری کے قریب ہوتے ہیں۔ بیٹنگ شاٹس اور متعلقہ فیلڈ سیٹ کے ذریعے ہر پوزیشن کو مخصوص شاٹ سے جوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

نتیجہ واضح ہے: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میچ کی زبان ہیں، مگر اصل مہارت اس زبان کا درست وقت پر استعمال ہے۔ گیندباز کی لائن، بلے باز کا اسٹانس، رنز کا ہدف، وکٹ کی رفتار اور میچ کا مرحلہ ایک ساتھ دیکھیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ، آئی سی سی اور ایم سی سی کے ضوابط کو بنیادی حوالہ بنائیں؛ غیر واضح سوشل میڈیا نقشوں پر آنکھ بند کر کے اعتماد نہ کریں۔ کسی بھی فیلڈ سیٹ کو اپنانے سے پہلے اسے دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے باز، نئی اور پرانی گیند، اور ٹیسٹ و ٹی ٹوئنٹی دونوں حالات میں پرکھیں۔

اب فیلڈنگ علم کو اگلے درجے پر لے جانے کا وقت ہے۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کیا ہیں؟

جواب: اہم ناموں میں وکٹ کیپر، سلِپ، گلی، پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، شارٹ لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل ہیں۔ ہر پوزیشن وکٹ کے مقابلے میں الگ زاویہ رکھتی ہے اور مخصوص شاٹس کو روکنے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ "ڈیپ" کا مطلب عموماً باؤنڈری کے قریب اور "شارٹ" کا مطلب وکٹ کے قریب فیلڈنگ ہوتا ہے۔ دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے باز کے مطابق زاویہ بدل سکتا ہے۔

سوال: سلِپ اور گلی میں کیا فرق ہے؟

جواب: سلِپ وکٹ کیپر کے قریب ترچھے پیچھے ہوتی ہے، جبکہ گلی اس سے زیادہ چوڑی اور پوائنٹ کے قریب واقع ہوتی ہے۔ سلِپ عموماً گیند کے باریک کنارے کے کیچ کے لیے رکھی جاتی ہے، خاص طور پر جیمز اینڈرسن یا شاہین شاہ آفریدی جیسے سوئنگ گیندبازوں کے ساتھ۔ گلی کٹ، بیک فٹ شاٹ اور چوڑے کنارے کے امکانات سنبھالتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں دونوں پوزیشنز زیادہ نمایاں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری تحفظ کے باعث کم استعمال ہو سکتی ہیں۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کیسے یاد کی جائیں؟

جواب: پوزیشنز یاد کرنے کا بہترین طریقہ انہیں آف سائیڈ، لیگ سائیڈ اور سیدھی لائن کے تین حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ پہلے سلِپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین یاد کریں۔ پھر ہر مقام کو ایک شاٹ سے جوڑیں، مثلاً پوائنٹ کو کٹ، کور کو ڈرائیو اور مڈ وکٹ کو پل سے۔ ٹیلی ویژن میچ میں ہر اوور کے آغاز پر پوزیشنز گننے کی مشق نام اور جگہ دونوں مضبوط کرتی ہے۔

سوال: فائن لیگ اور تھرڈ مین میں کیا فرق ہے؟

جواب: فائن لیگ وکٹ کے پیچھے لیگ سائیڈ پر، جبکہ تھرڈ مین وکٹ کے پیچھے آف سائیڈ پر ہوتا ہے۔ فائن لیگ فلک، لیگ گلانس اور ٹانگ کی سمت جانے والی گیندیں روکتا ہے، جبکہ تھرڈ مین بیرونی کنارے اور تیسری سمت نکلنے والے شاٹس کو قابو کرتا ہے۔ نئی گیند کے سوئنگ میں تھرڈ مین اہم ہو سکتا ہے، مگر یارکر اور لیگ سائیڈ فلک کے خلاف فائن لیگ زیادہ ضروری بن جاتا ہے۔ پوزیشن کا فاصلہ باؤنڈری، بلے باز اور میچ کے مرحلے کے مطابق بدلتا ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشن کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

جواب: فیلڈنگ پوزیشن گیندباز کی لائن، بلے باز کے اسٹانس، متوقع شاٹ، رنز کی ضرورت اور میچ کے فارمیٹ کے مطابق منتخب کی جاتی ہے۔ ٹیسٹ میں سلِپ اور گلی کے ذریعے کیچ کا دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں ڈیپ مڈ وکٹ، لانگ آف اور فائن لیگ باؤنڈری بچانے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ کپتان کو پچھلی گیند کا نتیجہ بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ بار بار ایک ہی شاٹ آنے پر فیلڈر کا زاویہ چند قدم بدلنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ موسم، اوس اور ہوا بھی آخری فیصلے میں شامل کریں۔

سوال: کیا فیلڈنگ پوزیشنز کے لیے کوئی مقررہ فاصلہ ہوتا ہے؟

جواب: زیادہ تر فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کے ساتھ کوئی ایک لازمی میٹر فاصلہ مقرر نہیں ہوتا، مگر پچ کی لمبائی 22 گز اور محدود اوورز میں 30 گز کا دائرہ اہم حوالہ ہیں۔ سلِپ کی جگہ گیند کی رفتار اور کنارے کے امکان سے، جبکہ باؤنڈری فیلڈر کی جگہ شاٹ اور حدِ میدان سے طے ہوتی ہے۔ ایم سی سی اور آئی سی سی کے قوانین قانونی پابندیاں بیان کرتے ہیں، لیکن کپتان عملی زاویہ حالات کے مطابق بدلتا ہے۔ اس لیے نقشہ یاد کریں، مگر اسے جامد قانون نہ سمجھیں۔

§
❦

کرکٹ گائیڈ · Editorial Archive · No. 01

متعلقہ مضامین